A beautiful piece by famous poet Faiz Ahmed Faiz on New Year. Did not want to spoil the magic of Urdu language, hence posting as it is (Without translation)

Happy new year 2015 and happy reading!

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے

ھر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے

روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی

آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ایک بات وہی

آسماں بدلا ہے افسوس نہ بدلی ہے زمیں

ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں

اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرینے تیرے

کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے

جنوری فروری اور مارچ میں پڑے گی سردی

اور اپریل،مئی اور جون میں ہوگی گرمی

تیرا من دہر میں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا

اپنی میعاد بَسَر کر کے چلا جائے گا

تو نیا ہے تو دِکھا صبح نئی، شام نئی

ورنہ اِن آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی

بے سبب لوگ دیتے ہیں کیوں مبارک بادیں

غالباً بھول گئے وقت کی کڑوی یادیں

تیری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی

فیض نے لکھی ہے یہ نظم نرالے ڈھب کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *